انگلینڈ کے ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ دی ہنڈرڈ لیگ کی 2026 پلیئر نیلامی میں پاکستانی اسپنرز نے نمایاں توجہ حاصل کر لی۔
نیلامی کے دوران پاکستان کے مسٹری اسپنر ابراراحمد کو کروڑوں روپے میں خرید لیا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر خاصی بحث چھڑ گئی۔
Finally, a Pakistani player has been picked by an Indian-owned franchise!
Sunrisers Leeds, led by owner Kavya Maran, saw Daniel Vettori express interest in mystery spinner Abrar Ahmed.
The franchise eventually won the bidding war against Trent Rockets, securing him for £190,000 https://t.co/o5SN3Q95MQ pic.twitter.com/gpgJFcuQmg
— Pavilion Post (@CricinsightsX) March 12, 2026
رپورٹس کے مطابق سن رائزرز لیڈز نے ابراراحمد کو ایک لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ میں سائن کیا ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 7 کروڑ 12 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ یہ فرنچائز سن رائزرز حیدرآباد سے منسلک گروپ کی ملکیت ہے، جس کی شریک مالکن کاویا مران (Kavya Maran) ہیں۔
اسی نیلامی میں ایک اور پاکستانی اسپنرعثمان طارق کو بھی بڑی رقم میں خریدا گیا۔ Birmingham Phoenix نے انہیں ایک لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 5 کروڑ 32 لاکھ پاکستانی روپے) میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا۔
Usman Tariq sold for £140,000 to Birmingham Phoenix in The Hundred auction. https://t.co/KeoBLHdlhr pic.twitter.com/yv4MQrhm0Y
— Pavilion Post (@CricinsightsX) March 12, 2026
بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم
دی ہنڈرڈ لیگ کیلئے کئی پاکستانی کھلاڑیوں نے خود کو رجسٹر کرایا تھا، تاہم نیلامی کے اس مرحلے تک صرف دو پاکستانی کرکٹرز کو ہی ٹیموں نے منتخب کیا ہے، کرکٹ مبصرین کے مطابق یہ دونوں کھلاڑی لیگ میں اپنی صلاحیتوں کے باعث نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نیلامی سے قبل یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ بھارت سے منسلک کسی گروپ کی فرنچائز انگلینڈ کے اس ٹورنامنٹ کے لیے پاکستانی کھلاڑی کو نہیں خریدے گی تاہم سن رائزرز لیڈز کی جانب سے ابرار احمد کو ٹیم میں شامل کرنے کے فیصلے نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔
اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض بھارتی صارفین نے کاویا مران کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ انہوں نے پاکستانی کھلاڑی کو ٹیم میں کیوں شامل کیا۔
دوسری جانب کئی کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے اور کھلاڑیوں کا انتخاب صرف کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق دی ہنڈرڈ لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت نہ صرف لیگ کے معیار کو بہتر بنائے گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے اسپنرز کی مہارت کو بھی اجاگر کرے گی۔
