اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست نمٹا دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی کے میڈیکل چیک اپ کیلئے نیا بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیاتھا۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی فیملی سے ملاقات کی ہدایت کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل رولز کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی، عدالت نے کہا کہ میڈیکل بورڈ کے ممبر ڈاکٹر ندیم قریشی فیملی کے ساتھ رابطے میں رہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیف کمشنر کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا اور ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی اس میں شامل کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے پاس اختیار موجود ہے تو معاملہ اتنا پیچیدہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی تمام معاملات تو طے ہو چکے ہیں لیکن ذاتی معالجین کو شامل نہیں کیا گیا۔
نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو کچھ ہو گیا تو کیا ریاست اس کی ذمہ داری لے گی؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے جواب دیا کہ ریاست ذمہ داری لیتی ہے اور بانی پی ٹی آئی کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ان کی صحت کی موجودہ صورتحال تسلی بخش ہے۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اگر ٹیسٹ ایک یا دو گھنٹوں میں ہو سکتے ہیں تو انہیں وہاں کیوں نہیں لے جایا جاتا۔ جسٹس خادم حسین نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے میڈیکل بورڈ کی کوئی رپورٹ موجود نہیں ہے اور کیا صرف جیل سپرنٹنڈنٹ کے بیان پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی کی فیملی کو صحت سے متعلق آگاہ نہیں کیا جاتا۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ ان کے ساتھ ہیں اور انہیں اطلاع دی جاتی ہے۔
دوران سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ اگر بانی کی بہن کو بھی آگاہ کر دیا جائے تو اس میں کیا مسئلہ ہے، اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اس معاملے پر کھل کر بات کرنا مشکل ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف ہنگامی دورے پر سعودی عرب روانہ
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مزید مؤقف اپنایا کہ بانی پی ٹی آئی کو جہاں بھی منتقل کیا جائے گا وہاں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، اسی لیے احتیاط برتی جا رہی ہے۔
