پاکستان میں 2026 کے آغاز سے اب تک سرکاری ویب سائٹس اور اداروں پر سائبر حملوں کی رپورٹ سامنے آئی ہے، جس سے ملک کے ڈیجیٹل نظام اور سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ حملے مختلف سرکاری اداروں، کاروباری تنظیموں اور تعلیمی شعبے کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ ان حملوں کے باعث بعض ویب سائٹس اور آن لائن سروسز عارضی طور پر متاثر بھی ہوئیں۔
پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم فیز 2 کی درخواستوں کی آخری تاریخ میں توسیع
اعداد و شمار کے مطابق ان 98 سائبر حملوں میں کم از کم 21 وفاقی ادارے بھی متاثر ہوئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومتی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مسلسل سائبر خطرات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویب سائٹس ہیک ہونا، ڈیٹا لیک اور دیگر سائبر خطرات پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کو اپنے ڈیجیٹل نظام اور ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سائبر سیکیورٹی کے اقدامات مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
ایپل نے میک بک خریدنے والوں کو بڑی سہولت فراہم کردی
دوسری جانب حکومت کی جانب سے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ اہم سرکاری ویب سائٹس اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو محفوظ بنایا جا سکے۔
