190ملین پاؤنڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپیشل پراسیکیوٹر نیب پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس آصف نے کی۔
بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے پاور آف اٹارنی بانی پی ٹی آئی سے تصدیق کروانے کے لیے کھوسہ صاحب کو بھجوایا، وکالت نامہ کے حصول کے لیے انہیں اڈیالہ جیل کے قریب بھی نہیں جانے دیا جاتا۔
عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست
اعتزاز احسن نے کہا کہ کل عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ وکالت نامہ دستخط کروا کر دیں گے، یہ کسی عدالت کو نہیں مانتے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو کوئی بھی وکالت نامہ بھیجتا ہے وہ دستخط کروا دیتے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں سمجھاتے ہیں تو کہتے ہیں ہمیں اوپر سے حکم ہے، کہتے ہیں جنرل فیض حمید کو سزا ہو گئی ہے احتساب شروع ہو گیا ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے کلائنٹ نے کبھی نہیں کہا میڈیکل گراؤنڈ پر کیس لڑیں، آپ نے ملتان بینچ میں ایک شخص کی بینائی جانے پر قتل کے مقدمے میں ضمانت دی تھی، میرے کلائنٹ کی تو چودہ سال کی قید ہے، آج پراسیکیوٹر موجود نہیں۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پراسیکیوٹر موجود ہیں جنہوں نے دلائل دینے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا نہیں سر، ہم نے متفرق درخواست دائر کی ہے۔
190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا ہم نے تو میڈیکل کا کہا ہے، نیب کیا مانگ رہا ہے وہ یہ بتا تو دیں، ہماری میڈیکل گراؤنڈ اضافی ہوگی۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا 65 دن بالکل تنہا رکھا گیا، اس دوران آنکھ کا مسئلہ ہوا ہے۔
اعتزاز احسن نے کہا جنرل ضیاء الحق کے دور میں پندرہ دن کے لیے جیل گیا تھا، ساتویں دن یہ حالت تھی کہ ٹائم دیکھتا تھا نہ پتا چلتا صبح کے پانچ ہیں یا رات کے، یہ ایک ٹارچر ہے، آپ قید تنہائی پر ایک فیصلہ دے دیں نسلیں یاد رکھیں گی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا آج اسپیشل پراسیکیوٹر عدالت میں موجود کیوں نہیں ، یہ دلائل دینے سے کیوں بھاگ رہے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے اسپیشل پراسیکیوٹر کی عدم حاضری پر نیب پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
