حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض میٹھے مشروبات، جیسے سافٹ ڈرنکس، فروٹ فلیورڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس، صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور ان کا زیادہ استعمال قبل از وقت موت کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق، یہ مشروبات نہ صرف دل کی بیماری اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے امکانات بڑھاتے ہیں بلکہ مجموعی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے روزمرہ زندگی میں سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
سحری اور افطار میں دہی شامل کرنے کے حیرت انگیز سائنسی فوائد
2020 کے عالمی ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق ان مشروبات کے بار بار استعمال کی وجہ سے تقریباً 2.2 ملین نئے ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز اور 1.2 ملین دل کی بیماری کے نئے کیسز سامنے آئے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تقریباً 340,000 افراد کی موت ہوئی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال میٹابولک فنکشن میں خرابی، انسولین مزاحمت اور دیرپا سوزش پیدا کر سکتا ہے، جو بالآخر ٹائپ 2 ذیابیطس اور قلبی بیماریوں کے خطرات کو بڑھاتا ہے۔
تحقیق میں شریک ماہرین، بشمول کارڈیالوجسٹ اور نیوٹریشنسٹ، نے مشورہ دیا ہے کہ ان مشروبات کا استعمال ہفتے میں ایک سرونگ سے بھی کم رکھا جائے اور پانی یا غیر کیلوریک مشروبات کو ترجیح دی جائے۔
یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت بہتر بنانے کا آسان طریقہ
اگرچہ یہ مطالعہ مشاہداتی نوعیت کا ہے اور براہِ راست سبب و اثر ثابت نہیں کرتا، تاہم اس نے شکر والے مشروبات کے استعمال سے منسلک صحت کے خطرات کے بارے میں موجودہ سفارشات کی تصدیق کی ہے اور عوام کو اپنی خوراک میں میٹھے مشروبات کی مقدار کم کرنے کی ترغیب دی ہے۔
