وزیراعظم شہبازشریف نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں25فیصد کٹوتی ،آئندہ 2ماہ کابینہ ارکان کو تنخواہ نہ دینے کااعلان کردیا۔
قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ شدید جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہے،امن کو لاحق خطرات ہم سب کیلئے تشویش کا باعث ہیں،پاکستان کو مغربی سرحدوں پر بھی دہشت گردی کا سامناہے،فوج دہشتگردوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کا جواب دے رہی ہے۔ہماری افواج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔
بلوچستان حکومت کا تمام تعلیمی ادارے 23 مارچ تک بند کرنے کا اعلان
ہم اپنی بہادر مسلح افواج کو سلام پیش کرتےہیں،مسلح افواج وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے قربانیاں دے رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چاہتےہیں مسائل کا حل سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے،معاملات تدبر اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں،پاکستان پوری کوشش کررہاہے کہ معاملات حل ہوں ،پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں تمام دوست ممالک کے ساتھ کھڑاہے۔
ہم دوست ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتےہیں،سعودیہ ،قطر،عمان اور یو اے ای میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتےہیں،آذربائیجان ،ترکیہ، بحرین اور کویت پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کا اظہار کرتاہے۔
وزیر اعظم کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر100ڈالر سے تجاوز کرگئیں،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا بہت مشکل فیصلہ تھا،ہم نے سیاست کو پس پشت ڈال کر معیشت اور ریاست کوترجیح دی،حکومتی اقدامات سے مہنگائی میں کمی اور روپیہ مستحکم ہوا۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا یوم علیؓ پر تعطیل کا اعلان
ہم وطنوں پر بوجھ کم کرنے کیلئے بہتر آپشن استعمال کیا،ہماری معیشت کا انحصار خلیج سے آنےوالے تیل اور گیس پر ہے،موجودہ صورتحال کو دیکھتےہوئے پاکستان نے مشکل فیصلے کیے،حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ موجودہ صورتحال کے باعث کیاگیا۔
کوشش ہوگی عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے،عوام پر بوجھ نہ پڑے اس لیے حکومت نے درمیانی راستہ نکالا،آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھیں گی،کوشش ہوگی آئندہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر نہ ڈالا جائے،پاکستان کو اس وقت اتحاد اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ کفایت شعاری اقدامات
سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے تیل میں50فیصد کٹوتی(آئندہ 2ماہ کیلئے)۔
سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیاں بند (آئندہ 2ماہ کیلئے)۔
کابینہ ارکان کو تنخواہ نہ دینے کا فیصلہ(آئندہ 2ماہ کیلئے )۔
ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں25فیصد کٹوتی۔
وزرا ،ارکان پارلیمنٹ،وزیراعظم،گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کے بیرون ممالک دوروں پر پابندی (آئندہ 2ماہ کیلئے )
سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر بھی مکمل طور پر پابندی۔
سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے سیمینار ہوٹلوں کے بجائے سرکاری اداروں میں منعقد کرنے کا اعلان۔
سرکاری محکموں میں گاڑیوں ، فرنیچر اورایئرکنڈیشنز کی خریداری پر مکمل پابندی لگادی گئی۔
سرکاری اداروں میں 50فیصد عملہ گھروں سے کام کرے گا۔
اہم اور ضروری خدمات کے علاوہ 50فیصد اسٹاف کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت۔
ہائیر ایجوکیشن کے تمام تعلیمی اداروں میں کل سے آن لائن کلاسز شروع کرنے کی ہدایت۔
ہفتے میں 4دن سرکاری دفاتر کھلے رہیں گے۔
رواں ہفتے کے آخر سے تمام اسکولوں میں 2ہفتے کی چھٹیاں۔
