سائنسدانوں نے چاند کی مٹی میں چنے اُگا کر مستقبل میں انسان کی چاند پر رہائش کے امکانات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق محققین نے ایسے چنے اگانے میں کامیابی حاصل کی ہے جو زیادہ تر مصنوعی قمری مٹی پر مشتمل مرکب میں اُگائے گئے۔ اس پیش رفت کو طویل مدتی قمری مشنز کے دوران خلا بازوں کو اپنی خوراک خود پیدا کرنے کے قابل بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق قابلِ برداشت مقدار میں چنے ایک ایسے مٹی کے مرکب میں اگائے گئے جو بنیادی طور پر ’’چاند کی مٹی‘‘ جیسی خصوصیات رکھنے والے مادّوں سے تیار کیا گیا تھا۔
یہ مرکب اُن قمری نمونوں کی بنیاد پر بنایا گیا جو نصف صدی سے زائد عرصہ قبل ناسا کے اپالو مشنز کے دوران چاند سے زمین پر لائے گئے تھے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی مستقبل میں چاند پر انسانی زندگی کے امکانات کو سمجھنے میں مدد دے گی۔
واضح رہے کہ ناسا اور دیگر خلائی ادارے آئندہ برسوں میں انسان کو دوبارہ چاند پر بھیجنے اور وہاں مستقل قیام کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق چاند پر خوراک کی پیداوار ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ وہاں کا سخت ماحول اور ناہموار مٹی زرعی سرگرمیوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔
