لاہور ہائیکورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
سماعت جسٹس خالد اسحاق نے کی، جس میں عدالت نے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مکمل طریقہ کار طلب کر لیا۔
یہ درخواست جوڈیشل ایکٹیوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی ہے، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں صرف چار سے پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس کے برعکس حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً بیس فیصد تک اضافہ کر دیا ہے جو آئین کے آرٹیکل 4، 9، 14، 18، 25، 37 اور 38 کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے کوئی واضح اور شفاف طریقہ کار موجود نہیں۔
وزیراعظم آج قومی کفایت شعاری پالیسی سمیت عوام کو ریلیف فراہمی کا اعلان کریں گے
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حکومتی نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 25 مارچ تک ملتوی کر دی۔
