کراچی: سندھ میں گاڑیوں کی انشورنس کو لازمی قرار دے دیا گیا۔ حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا کو 7 لاکھ روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے کراچی سمیت صوبے بھر میں گاڑیوں کی تھرڈ پارٹی انشورنس لازمی قرار دے دی۔ جس کے بغیر گاڑی کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس جمع کرانا ممکن نہیں ہو گا۔
سندھ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد سڑکوں پر تحفظ کو یقینی بنانا اور شہریوں کے حقوق کا بہتر تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تھرڈ پارٹی انشورنس ٹریفک حادثات سے متاثرہ خاندانوں کے لیے اہم مالی سہارا ثابت ہو گی۔
نئے قانون کے تحت گاڑیوں کے لیے نوفالٹ معاوضہ سسٹم کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس نظام کے تحت ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کے ورثا کو 7 لاکھ روپے جبکہ معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔
حکومت سندھ کے مطابق صوبے میں پاکستان کا پہلا جدید ڈیجیٹل انشورنس مانیٹرنگ سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ جس کے ذریعے جعلی انشورنس کے امکانات ختم کیے جا سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق میں 583 افغان طالبان ہلاک اور 795 سے زائد زخمی ہوئے، عطا اللہ تارڑ
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کے بعد نئی دفعہ شامل کی گئی ہے۔ تاکہ ٹریفک حادثات کے متاثرین کو فوری مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی گئی ہے کہ نئے قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
