بھارتی کرکٹ ٹیم ایک مرتبہ پھر اسی میدان میں فائنل کھیلنے جا رہی ہے جہاں اسے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بھارتی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو ( Suryakumar Yadav) نے فائنل سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیم کے لیے ایک نیا دن اور نیا موقع ہے، اس لیے کھلاڑیوں کو کسی دباؤ کے بغیر بے خوف ہو کر کھیلنا ہوگا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ، فاتح ٹیم کو 3 ملین ، رنرز اپ کو 1.6 ملین ڈالر انعام ملے گا
ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل شروع ہونے والا سفر اب اسی اسٹیڈیم میں آ کر مکمل ہو رہا ہے جہاں 2023 میں ٹیم کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
سوریا کمار یادیو نے کہا کہ مشکل حالات میں حوصلہ اور جرات ہی کامیابی کی کنجی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیم کے ڈریسنگ روم میں ایسے کئی تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں جو بڑے مقابلوں میں کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر ہاردک پانڈیا، جسپریت بمرا اور اکشرپٹیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھلاڑی ماضی میں آئی سی سی ایونٹس کے دباؤ کو بخوبی سنبھال چکے ہیں اور نوجوان کھلاڑی ان کے تجربے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
فن ایلن کا ٹی 20 ورلڈ کپ میں 33 گیندوں پرتیز ترین سنچری کا نیا ریکارڈ
بھارتی کپتان کے مطابق ٹیم کے کھلاڑی اکثر سفر کے دوران یا کھانے کے وقت آپس میں کھیل کے مشکل لمحات پر گفتگو کرتے ہیں اور یہی بات چیت انہیں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔
فائنل میں نیوزی لینڈ کی ممکنہ حکمت عملی کے بارے میں سوال پر سوریا کمار یادیو نے کہا کہ انہوں نے مخالف ٹیم کی آف اسپن بولنگ پر زیادہ غور نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر نیوزی لینڈ پاور پلے میں آف اسپنرز کو استعمال کرتا ہے تو بھارتی بیٹرز اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ میچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بائیں ہاتھ کے بلے بازوں شیوم دوبے ، ایشان کشن اور تلک ورما نے آف اسپنرز کے خلاف بہترین بیٹنگ کی تھی۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سیمی فائنل سے قبل بھارتی ٹیم کی حرکت نے سب کو حیران کر دیا
سوریا کمار یادیو نے اعتراف کیا کہ فائنل سے قبل تھوڑی بہت گھبراہٹ فطری بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک دباؤ نہ ہو کھیل کا اصل مزہ بھی نہیں آتا، اسی لیے وہ اس بڑے مقابلے کے لیے نہایت پرجوش ہیں۔
واضح رہے یہ فائنل سوریا کمار یادیو کے لیے بطور کپتان پہلا بڑا عالمی مقابلہ ہوگا، جبکہ بھارت کی گزشتہ دو آئی سی سی ٹرافیاں سابق کپتان روہت شرما کی قیادت میں جیتی گئی تھیں۔
