اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دن بھر موبائل اور ٹی وی پر اشتہارات دیکھنے کے بعد رات کو سکون کی نیند سوئیں گے، تو ٹیکنالوجی کی دنیا سے آنے والی تازہ ترین خبریں آپ کی نیند اڑا سکتی ہیں۔
معروف ٹیک کمپنیاں، بشمول مائیکرو سافٹ اور دیگر، ایسی جدید ڈیوائسز اور الگورتھم پر کام کر رہی ہیں جو براہِ راست آپ کے خوابوں میں مخصوص برانڈز کے اشتہارات داخل کر سکیں گی۔
خوابوں میں اشتہار کا تصور
یہ تصور سائنس فکشن فلموں جیسا لگتا ہے، لیکن ماہرینِ اعصاب (Neuroscientists) اور انجینئرز اب اسے حقیقت بنانے کے قریب ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد نیند کے مخصوص مراحل (REM Sleep)، جب انسان خواب دیکھتا ہے، کے دوران دماغی لہروں کو متحرک کرنا ہے۔ ایک چھوٹی سی ڈیوائس یا ہیڈ سیٹ کے ذریعے، صارف کے دماغ میں ہلکی سی برقی لہریں یا صوتی سگنلز بھیجے جائیں گے، جو اسے مخصوص اشیاء، جیسے پیزا، نئی گاڑی، یا کسی سوفٹ ڈرنک کے خواب دیکھنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
اخلاقی سوالات اور عوامی ردعمل
اس ٹیکنالوجی کے اعلان نے پوری دنیا میں بحث چھیڑ دی ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ انسانی رازداری (Privacy) کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ کیا اب کمپنیوں کو ہمارے دماغوں پر بھی کنٹرول حاصل ہو جائے گا؟ سوشل میڈیا پر صارفین اس پر سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، “اگر میں خواب میں کوکا کولا دیکھ کر جاگوں، تو کیا مجھے اس کا بل بھی ملے گا؟”
دنیا میں جہاں پہلے ہی لوگ مہنگائی اور دیگر مسائل سے پریشان ہیں، وہاں یہ خبر حیرت اور خوف کا باعث بنے گی۔ کیا مستقبل میں سکون کی نیند بھی “پریمیم سبسکرپشن” کے بغیر ممکن نہیں ہوگی؟
