کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد رضوان غازی غوری کو کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد رضوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غازی غوری کو کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ پاکستان کرکٹ میں مزید وکٹ کیپرز کا سامنے آنا مثبت پیشرفت ہے۔ کیونکہ اس سے قومی ٹیم کو بہتر آپشنز مل سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ بنگلا دیش کے لیے اعلان کردہ ون ڈے اسکواڈ میں غازی غوری سمیت 6 ایسے کھلاڑی شامل ہیں جنہوں نے اب تک ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبیو نہیں کیا۔ دیگر کھلاڑیوں میں عبدالصمد، معاذ صداقت، سعد مسعود، صاحبزادہ فرحان اور شمیل حسین شامل ہیں۔
غازی غوری کی شمولیت پر سوشل میڈیا پر بحث بھی جاری ہے کیونکہ ان کا ڈومیسٹک کرکٹ کا تجربہ محدود ہے۔ وہ گزشتہ سال اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے دو میچ کھیل چکے ہیں جبکہ لسٹ اے کرکٹ میں انہوں نے 17 میچوں میں 20 سے کچھ زائد اوسط اور 80 سے کم اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ بیٹنگ کی ہے۔
محمد رضوان نے کہا کہ کاغذوں میں سیریز آسان لگ سکتی ہے لیکن بنگلہ دیش کرکٹ اپنی کنڈیشنز میں سخت حریف ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہاں کی پچز میزبان ٹیم کو فائدہ دیتی ہیں۔
سینئر کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر رکھنے کے سوال پر رضوان نے کہا کہ اس بارے میں سلیکشن کمیٹی بہتر وضاحت دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ سلیکشن اجلاس کا حصہ ہوتے تو بتا سکتے تھے کہ کن کھلاڑیوں کو کیوں ڈراپ کیا گیا۔
انہوں نے ٹیم سازی میں کپتان کے کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اگر سلیکشن کمیٹی یا ہیڈ کوچ کپتان کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے تو پھر اسے کپتان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ میدان میں ٹیم کی قیادت کپتان ہی کرتا ہے۔
رضوان نے جدید کرکٹ میں بڑھتے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں مزید پیشہ ورانہ رویئے کی ضرورت ہے کیونکہ دیگر ٹیمیں دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھالنا جانتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نےہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرلیا
واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز 11 سے 15 مارچ تک ڈھاکہ میں کھیلی جائے گی۔
