اسلام آباد ہائیکورٹ نے موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کے معاملے پر اسلام آباد انتظامیہ سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی سماعت کے بعد دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگوانے کا عمل کسی واضح قانونی بنیاد کے بغیر شروع کیا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ شہریوں کو پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ نصب کروائیں، حالانکہ اس حوالے سے کوئی باقاعدہ قانون یا ضابطہ موجود نہیں۔
نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کا آسان طریقہ
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور انتظامیہ کو شہریوں پر ایسی پابندی عائد کرنے سے روکا جائے،عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد اسلام آباد انتظامیہ کو معاملے پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ اس معاملے سے متعلق اپنی رپورٹ سات دن کے اندر عدالت میں جمع کرائے۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ سرکاری لا افسر متعلقہ حکام سے مکمل تفصیلات حاصل کر کے عدالت کی معاونت کریں تاکہ اس معاملے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید سماعت 16 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انتظامیہ اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتائے کہ موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ کس قانون یا پالیسی کے تحت کیا گیا۔
