قومی اسمبلی کے اجلاس میں نیب ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔
بل رکن قومی اسمبلی ماہ جبین عباسی نے ایوان میں پیش کیا جس کے دوران اپوزیشن ارکان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے مختلف اعتراضات بھی اٹھائے،بل کی منظوری کے بعد موجودہ چیئرمین نیب کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع ہو گئی ہے۔
حکومتی ارکان نے بل کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس قانون سازی کا مقصد احتساب کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانا ہے جبکہ اپوزیشن نے اسے متنازع قرار دیتے ہوئے اس پر مزید بحث کی ضرورت پر زور دیا۔
خیبرپختونخوا:سرکاری ملازمتوں کیلئے نئی بھرتی کی پالیسی جاری
اجلاس کے دوران وزیر قانون نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پہلے بھی سینیٹ میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ ترمیم کے تحت نیب مقدمات میں مالی حد یعنی سیلنگ میں اضافے کی تجویز شامل ہے جسے موجودہ پچاس کروڑ روپے سے بڑھانے پر غور کیا گیا ہے تاکہ بڑے مالیاتی مقدمات کو مؤثر طریقے سے نمٹایا جا سکے۔
وزیر قانون کے مطابق بل میں یہ تجویز بھی شامل کی گئی ہے کہ نیب مقدمات میں سزا یافتہ یا ملزم کو اپیل کے لیے ہائی کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت سے رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، اس اقدام سے ملزمان کو قانونی چارہ جوئی کے مزید مواقع میسر آئیں گے اور عدالتی عمل مزید مضبوط ہوگا۔
حکومت کے مطابق نئی ترامیم احتسابی نظام کو بہتر بنانے اور قانونی طریقہ کار کو زیادہ متوازن بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گی۔
