حالیہ تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ میٹا پلیٹ فارم کے تیار کردہ اسمارٹ چشمے ری-بین میٹا اسمارٹ گلاسز سے ریکارڈ کی جانے والی ویڈیوز کو کمپنی کے سسٹمز کے ذریعے انسانی عملہ بھی دیکھ سکتا ہے، جس سے صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جب صارفین ان اسمارٹ چشموں کی مدد سے ویڈیوز ریکارڈ کرتے ہیں یا ان میں موجود مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق فیچرز استعمال کرتے ہیں تو بعض حالات میں یہ مواد کمپنی کے ڈیٹا سسٹمز تک منتقل ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں اس مواد کو مصنوعی ذہانت کے نظام کو بہتر بنانے اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مخصوص ٹیموں یا بیرونی کنٹریکٹرز کے ذریعے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں سائبر سکیورٹی کے لیے 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم قائم
تحقیق سے منسلک ذرائع کے مطابق ان ویڈیوز میں روزمرہ زندگی کے عام مناظر، گھریلو سرگرمیاں اور بعض اوقات ذاتی نوعیت کے لمحات بھی شامل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ کئی مواقع پر آس پاس موجود افراد کو اس بات کا علم بھی نہیں ہوتا کہ انہیں اسمارٹ چشموں کے ذریعے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اس نوعیت کا ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے تربیتی نظام کا حصہ بن جاتا ہے تو بعد میں اس کے استعمال پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جس سے رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔

دوسری جانب کمپنی کا مؤقف ہے کہ صارفین کی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے چہروں کو دھندلا کرنے اور دیگر حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ تاہم تحقیق میں شامل بعض کارکنوں کے مطابق یہ اقدامات ہر صورتحال میں مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔
یہ اسمارٹ چشمے عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور ان میں نصب کیمرہ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون نظام صارفین کو اپنی نظر کے زاویے سے تصاویر اور ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس نے جدید ٹیکنالوجی اور پرائیویسی کے درمیان توازن پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
