پاکستان نے اہم قومی انفراسٹرکچر اور سرکاری ڈیجیٹل نظام کو سائبر خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے 24 گھنٹے فعال سائبر مانیٹرنگ مرکز قائم کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ مرکز نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کے تحت اسلام آباد میں قائم کیا گیا ہے، جہاں ماہرین پر مشتمل ٹیم چوبیس گھنٹے سرکاری ویب سائٹس، نیٹ ورکس اور اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی نگرانی کرے گی۔ اس نظام کے ذریعے کسی بھی ممکنہ سائبر حملے یا مشکوک سرگرمی کی بروقت نشاندہی کر کے فوری ردعمل ممکن بنایا جائے گا۔
فائیو جی کی نیلامی میں کون کون سی کمپنیاں شریک ہونگی؟ نام سامنے آگئے
حکام کے مطابق یہ کنٹرول روم ملک بھر میں سائبر سکیورٹی سے متعلق واقعات کی نگرانی، تجزیہ اور مؤثر ردعمل کے لیے ایک مرکزی رابطہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ اس کا مقصد قومی سطح پر ڈیجیٹل نظام کو زیادہ محفوظ اور مستحکم بنانا ہے۔
حکومت نے تمام انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں (ISPs) اور متعلقہ اداروں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورکس کی مسلسل نگرانی کے لیے سکیورٹی مانیٹرنگ ڈیسک قائم کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا سائبر حملے کی صورت میں فوری طور پر نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کو آگاہ کریں۔
اس کے علاوہ مختلف سرکاری اداروں کو سائبر ایمرجنسی کی صورت میں رابطے کے لیے اپنے فوکل پرسنز نامزد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ معلومات کا بروقت تبادلہ اور فوری کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
وزیراعظم یوتھ اسکیم کے تحت بلاسود لیپ ٹاپ فنانسنگ کا آغاز
ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے سائبر سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور اہم قومی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ممکنہ سائبر خطرات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
