ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم نے ہمسایہ ممالک، دوست ریاستوں اور اعلیٰ شخصیات کے ذریعے سفارتکاری کی ہر ممکن کوشش جاری رکھی تاکہ کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے تنازع سے بچنے کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کیے، تاہم حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ دفاع کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہا، امریکی اور اسرائیلی فوجی جارحیت نے ایران کو اپنے دفاع پر مجبور کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران تمام دوست اور ہمسایہ ممالک کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا قائل نہیں۔
پاکستان نے متبادل تیل سپلائی روٹ کیلئے سعودی عرب سے درخواست کردی
انہوں نے مزید کہا کہ خطے کی سلامتی اوراستحکام بیرونی دباؤ یا طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ خطے کے ممالک کی مشترکہ کوششوں، باہمی احترام اور تعاون سے ہی ممکن ہے۔
ایرانی صدرنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران امن، استحکام اور تعمیری مکالمے کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے، تاہم قومی سلامتی اورخودمختاری پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
