لاہور ہائی کورٹ نے متعدد ججز کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے 3 سول ججز کو فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات پر مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سول ججز کے خلاف تادیبی کارروائیاں مکمل کرتے ہوئے اہم فیصلے جاری کر دیئے۔ جس میں 3 سول ججز کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ جبکہ ایک جج کو سنسر کی سزا سنائی گئی۔ ایک جج کو الزامات سے بری کر دیا گیا۔
عدالتی اعلامیے کے مطابق لاہور کی سول جج نسیم اختر ناز کو کرپشن اور بدسلوکی کے الزامات ثابت ہونے پر فوری طور پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ جبکہ راولپنڈی کے سول جج محمد اسلام کو انکوائری میں بدانتظامی کے الزامات درست ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
جہلم کے سول جج سرمد سلیم کو بیرون ملک سے واپس نہ آنے اور سرکاری فرائض میں غفلت برتنے پر برطرف کیا گیا۔ کوٹ مومن کے سول جج محمد خرم کو تادیبی کارروائی کے بعد سنسر (سرزنش) کی سزا سنائی گئی۔
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے سول جج عمران عابد کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے ان کے خلاف جاری انکوائری ختم کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان امن کا علمبردار، جارحیت کا منہ توڑ جواب دینگے، طارق فضل چودھری
رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ امجد اقبال رانجھا نے پانچوں ججز سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیئے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق یہ اقدامات عدالتی نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
