امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے امریکی صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ طویل ہوئی تو متعدد خطرات سامنے آ سکتے ہیں۔
الجزیرہ نے پینٹاگون سے لیک ہونے والی اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے اگر امریکا مزید 10 دن تک ایران پر حملے جاری رکھتا ہے تو اہم میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ کے نتیجے میں اسلحے کے ذخائر کی تیزی سے کمی اور ان کی دوبارہ تیاری پر غیر معمولی اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بعض ہتھیار، خصوصاً انٹرسیپٹر میزائل چند ہی دنوں میں کم ہو سکتے ہیں۔
برطانوی ریسرچ ادارے کی اسرائیل، امریکا اور ایران جنگ پر سروے رپورٹ جاری
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور یوکرین جیسے اتحادیوں کو فوجی امداد فراہم کرنے کے بعد امریکا کے اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر، خصوصاً میزائل دفاعی نظام کے لیے اہم ہتھیار پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔
گزشتہ سال ایران کیساتھ جھڑپوں میں امریکا نے اپنے تھاڈ (THAAD) انٹرسیپٹرز کا تقریباً 25 فیصد استعمال کیا تھا، جس میں 150 میزائل ایرانی حملوں کو روکنے کیلیے داغے گئے۔ اس دوران بحری جہازوں سے داغے جانے والے انٹرسیپٹر میزائل بھی ختم ہو گئے تھے۔
خلیج فارس میں امریکا کا سب سے بڑا ریڈار ایرانی میزائل حملوں میں تباہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا جدید درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں اور اہم دفاعی نظام، بشمول تھاڈ کے ذخائر تیزی سے کھو سکتا ہے، ان میں جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز بھی شامل ہیں، جو عام بموں کو جی پی ایس کی مدد سے انتہائی درست نشانے والے اسمارٹ ہتھیاروں میں تبدیل کرتے ہیں۔
