سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کو اب پاکستان اور دہشتگرد گروہوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی جاری کارروائیوں کا دورانیہ افغان حکومت کی زمینی سطح پر دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔ اگر افغان سرزمین سے سرگرم عناصر کے خلاف مؤثر ایکشن نہ لیا گیا تو آپریشنز جاری رہیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان رجیم علاقائی امن میں خلل ڈالنے والے متعدد دہشتگرد گروہوں کو پناہ دینے کا پراکسی ماسٹر بن چکی ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ آپریشن “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” کی سہولت کاری کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اسی طرح آپریشن “غضب للحق” بھی اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ٹھوس یقین دہانی اور عملی اقدامات سامنے نہیں آتے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور وزارت اطلاعات مسلسل آپریشن غضب للحق کی پیشرفت سے متعلق تفصیلات شیئر کر رہی ہے۔
ذرائع نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان رجیم اور ان کے ہندوستانی آقا من گھڑت پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں تاکہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔
ایران پرحملے کے بعد پاکستانی طلبہ کی تیز رفتار واپسی، حکومت اور پاک فوج کی موثر کارروائی
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ ایران نے چین اور روس کے ساتھ پاکستان کے ردعمل کو سراہا ہے، جبکہ پاکستان ایک مستحکم اور پرامن ایران کا خواہاں ہے، پاکستان کو اگلا ہدف بنانے سے متعلق خبریں بے بنیاد قرار دی گئیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران عسکری اور خارجہ پالیسی کے لحاظ سے مختلف حکمت عملی رکھتے ہیں، تاہم دونوں ممالک خطے میں استحکام کے خواہاں ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان ایک مضبوط اور متوازن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور عالمی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان کے عوام کے استحکام اور خوشحالی کے لیے شمولیت اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے زور دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور قوم کے تعاون سے دشمنوں کے تمام مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔
پاکستان کے ایک سینئرسیکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے پاکستان ایک متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے باوجود اسلام آباد نے اپنے قومی مفاد اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اختیار کی ہے۔
عہدیدار کے مطابق ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا ہے، جبکہ چین اور روس نے بھی اس مؤقف کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات کھل کر بیان کیے ہیں اور اس حوالے سے سفارتی سطح پر واضح پیغام دیا گیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ایک مستحکم اور پُرامن تہران کا خواہاں ہے اور خطے میں کشیدگی کے بجائے مکالمے اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے۔ سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا کہ پاکستان ممکنہ طور پر اگلا ہدف بن سکتا ہے اور اسے بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور علاقائی امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
