صدرمملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ قائداعظم نے آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم جمہوریت کا تصور پیش کیا،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایک متفقہ آئین دیا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بطور صدر 9ویں بار پارلیمان سے خطاب میرے لیے اعزاز ہے،نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہمیں اسی عزم کوآگے بڑھانا ہے۔
صدر آصف زرداری کی اماراتی نائب صدر سےملاقات،اہم امور پر گفتگو
پارلیمنٹ سے ایسا ہر خطاب جمہوری نظام کے تسلسل اور ذمہ داری کی یاد دہانی ہے،قوموں کاامتحان صرف بحران میں نہیں،اہم موڑ پر بھی ہوتاہے،ملکی خودمختاری کا تحفظ ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
اپنے شہریوں کی خوشحالی اور امن کیلئے ترقی اور استحکام کا عمل آگے بڑھانا ہے ،آج ہم ان بنیادوں پرکھڑے ہیں جوہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں،پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔
گزشتہ ہفتے بھارت نے افغانستان کے راستے پراکسی کارروائیوں میں اضافہ کیا،طالبان رجیم نے دیکھا کہ ریڈ لائن پار کرنے سے پاکستان کا ردعمل کیسا ہوتا ہے،جنگ کے میدان سے مذاکرات کی میز کی طرف آئیں،یہی علاقائی سلامتی کا راستہ ہے۔
مودی! وہ دل گردہ کہاں سے لاؤ گے، جو ہمارے فیلڈ مارشل کا ہے؟ صدرآصف زرداری
جنگ کی صورت میں جارح کو ایک اور ذلت آمیز شکست کیلئے تیار رہنا چاہیے،پاکستان نے دہشتگردوں کی در اندوزی روکنے کیلئے سفارتکاری کی ہر ممکن کوشش کی،ہمارے لیے جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہے۔
کسی بھی ریاست کیلئے اپنی سرزمین پر حملے قابل قبول نہیں،یواین چارٹرکا آرٹیکل 51 ہمیں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے،ہم نے بھارت اور افغانستان دونوں کو اپنی صلاحیتوں کا ایک حصہ دکھایا۔
دہشتگردی کے خاتمے کی اس مہم میں افواج پاکستان اکیلی نہیں ،کالعدم ٹی ٹی پی ،بی ایل اے اور وابستہ تنظیموں کے حملے بالکل برداشت نہیں،دوٹوک انداز میں واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین مقدس ہے۔
کسی کو اجازت نہیں کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرے،جب بھی قومی خودمختاری کو چیلنج کیاگیا پاکستان نے تحمل اورمضبوط عزم کا مظاہرہ کیا۔
عدم اعتماد صرف میں لا سکتا ہوں اور کامیاب کرانا بھی جانتا ہوں، آصف زرداری
سرحدوں پر بلااشتعال حملوں پر ہماری افواج نے پیشہ ورانہ مہارت کاثبوت دیا ،ہماری بہادر افواج نے معرکہ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی فتح میں بدل دیا،26فروری کی رات طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے۔ہماری سیکیورٹی فورسز نے واضح کردیا کسی دراندازی کوبرداشت نہیں کیا جائےگا۔سیاسی قیادت متحد اور قوم ثابت قدم رہی۔
صدر مملکت نے پوری قوم کی طرف سے اپنی سرحدوں کے بہادر محافظوں سے اظہار تشکر کیا ،انہوں نے کہا کہ نڈر سپوتوں کی مستعدی ،بہادری اور خدمت کی بدولت ہم آج محفوظ ہیں۔
مختصر ہویاطویل ،ہماری افواج اور اداروں کی قربانیوں کومحض اعداد میں نہیں سمیٹا جاسکتا،ہم میڈیا پر اپنی بہادر افواج اور اداروں کے کارنامے فخر سے دیکھتے ہیں،ہم ان کی تربیت ،مشقت اورخدمت میں شامل خون ،پسینہ اور آنسو نہیں دیکھ پاتے۔
جیل مردوں کی طرح کاٹو، عورتوں کی طرح کیوں رو رہے ہو؟ آصف زرداری
ہر شہید ایسے خاندان کی نمائندگی کرتاہے جس نے ملکی استحکام کیلئے عظیم قربانی دی ،شہدا کے اہلخانہ کیلئے وہی درد رکھتا ہوں جو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پر محسوس کیا تھا،بطور ریاست ہمیں ان خاندانوں کی عزت اور وقار کیساتھ مسلسل کفالت کرنی ہے۔
