مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز بند ہونے سے خام تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں تیل کی سپلائی اور شپنگ روٹس کو درپیش خطرات نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے، امریکی خام تیل کی قیمت میں 10.98 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 74.38 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
برطانوی برینٹ خام تیل 11.81 فیصد اضافے کے بعد 81.89 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں نقل و حمل متاثر ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں نمایاں کمی آسکتی ہے، جس کے اثرات مزید قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
ادھر محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے اثاثوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، عالمی سطح پر سونے کی قیمت 1.53 فیصد اضافے کے بعد 5,339 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ چاندی 0.79 فیصد اضافے کے ساتھ 94.43 ڈالر فی اونس میں فروخت ہوئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق خطے کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں توانائی اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
