تہران: آیت اللہ علی رضا اعرافی کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد عبوری کونسل کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔ وہ دہائیوں تک ایران کے دینی اور انتظامی اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
آیت اللہ علی رضا اعرافی ایک سینیئر عالم دین ہیں۔ اور انہیں اب ایک ایسے مرحلے میں ایران کی قیادت سنبھالنے کا چیلنج درپیش ہے۔ جب خطے میں کشیدگی اور داخلی عدم استحکام بڑھ چکا ہے۔
آیت اللہ علی رضا اعرافی 1959 میں یزد صوبے کے شہر میبوڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک عالم دین کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور دہائیوں تک ایران کے دینی اور انتظامی اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
ان کا کیریئر مرحوم سپریم لیڈر خامنہ ای کے دور میں تیزی سے آگے بڑھا۔ جنہوں نے انہیں اہم ذمہ داریوں پر تعینات کیا۔ جن میں میبوڈ اور بعد میں قم میں جمعہ کی نماز کی قیادت شامل ہے، جو اعلیٰ قیادت کے اعتماد کی نشاندہی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انتقام کو ایران کا قانونی اور اخلاقی حق سمجھتے ہیں، ایرانی صدر
آیت اللہ اعرافی نے المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی صدارت بھی کی۔ جو ایران اور بیرون ملک سے علما کی تربیت کا ایک اہم ادارہ ہے۔ اور 2019 میں انہیں گارڈین کونسل میں شامل کیا گیا۔ جو ایران کا آئینی ادارہ ہے اور قانون سازی اور امیدواروں کی منظوری کے اختیارات رکھتا ہے۔
