تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ وہ انتقام کو ایران کا قانونی اور اخلاقی حق سمجھتے ہیں۔ اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مبینہ حملے کے بعد ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ وہ جوابی اقدام کو ایران کا قانونی اور اخلاقی حق سمجھتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ تصور کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے تعزیتی بیان میں آیت اللہ خامنہ ای کو عزم و استقلال کی علامت قرار دیا۔ ان کے مطابق وہ گہری بصیرت اور اپنے مؤقف پر ثابت قدمی کی نمایاں مثال تھے۔
انہوں نے اس واقعے کو بڑا قومی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس مشن اور نظریئے کی نمائندگی کی گئی۔ اسے آگے بڑھایا جائے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای اپنے پیچھے عزت، حکمت اور استقامت کا ایسا ورثہ چھوڑ گئے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سی آئی اے نے آیت اللہ خامنہ ای کی لوکیشن معلوم کر کے اسرائیل کو فراہم کی ، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ جس کے بعد ایران میں ممکنہ متبادل قیادت کے حوالے سے مشاورت کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔
