متحدہ عرب امارات نے اپنی سرزمین اور خطے کے دیگر ممالک پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تہران کو خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزیوں کے تسلسل کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
یو اے ای وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سفارتکاری ہی مسائل کا حل ہے، تاہم ریاست اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
دوسری جانب عمان، جو ایران اورامریکا کے درمیان جوہری معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے نے حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے ایرانی اسکول پر حملے میں شہید افراد کی تعداد 40 ہو گئی
عمانی وزیر خارجہ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے کوافسوسناک قراردیتے ہوئے کہا کہ جنگ سے نہ امریکا کے مفادات پورے ہوتے ہیں اور نہ ہی عالمی امن کا مقصد حاصل ہوتا ہے، انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ایران پر حملے رکوائے اورمزید اس تنازع میں ملوث ہونے سے گریز کرے۔
ادھراسپین نے بھی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ہسپانوی وزیراعظم نے کہا کہ طاقت کا استعمال خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے اور عالمی برادری کو فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے اور سفارتی کوششوں میں تیزی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
یوکرینی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یوکرین ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اورایران میں سیاسی تبدیلی کی حمایت جاری رکھے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرینی وزیرِ خارجہ اینڈری سیبیہا کا کہنا ہے کہ ایران میں حالیہ کشیدگی کی ذمہ دار ایران کی موجودہ قیادت ہے، موجودہ صورتِ حال کی بنیادی وجہ ایرانی حکومت کا تشدد اور استثنیٰ ہے۔
