امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملوں کے جواب میں ایران کی طرف سے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اس دوران تل ابیب اور مشرق وسطیٰ کے کئی علاقوں میں متعدد دھماکوں اور میزائل حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر مزید میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں تل ابیب اور حیفہ سمیت دیگر اسرائیلی شہروں میں سائرن بجائے گئے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ رائٹرز کے مطابق ابوظہبی ایئرپورٹ کے قریب اور دوحہ میں بھی دھماکے محسوس کیے گئے۔ ابو ظہبی میں ایک میزائل حملے میں شہری بھی جاں بحق ہوئے۔
یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائل روک لیے۔
یو اے ای نے کہا ہے کہ اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی راکٹ حملے کیے گئے، جن میں عراق کے کردستان علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی جانب سے اسرائیل پر مزید میزائل حملوں کی اطلاعات بھی جاری ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران میں اسرائیلی حملوں کے دوران پانچ طالبات شہید ہو گئی ہیں، جبکہ میناب شہر میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک پرائمری اسکول بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق پاسداران انقلاب کے کئی سینئر کمانڈر بھی حملے میں شہید ہو گئے۔
سعودی عرب نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ برادر ممالک پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر آج قوم سے دوبارہ خطاب کر سکتے ہیں۔
