پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں، جن میں افغانستان کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک اپنے ہمسایہ کے ساتھ ’’کھلی جنگ‘‘ کی صورتحال میں ہے۔
لندن میں قائم ادارے International Institute for Strategic Studies کے اعداد و شمار کے مطابق عسکری طاقت کے اعتبار سے پاکستان کو افغانستان پر واضح برتری حاصل ہے۔
مجموعی جائزہ
پاکستان کی مسلح افواج بھرتی کے مضبوط نظام کے باعث افرادی قوت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کو اپنے بڑے دفاعی شراکت دار ، چین سے جدید عسکری ساز و سامان بھی حاصل ہے۔ اسلام آباد ایٹمی پروگرام میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے اور بحریہ و فضائیہ کو بھی جدید بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کی عسکری صلاحیت میں کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد قبضے میں لیے گئے غیر ملکی ساز و سامان کے مؤثر استعمال میں مشکلات سامنے آئی ہیں۔ طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہ کیے جانے کے باعث عسکری جدید کاری بھی متاثر ہوئی ہے۔
افرادی قوت
پاکستان کی مسلح افواج میں 6 لاکھ 60 ہزار فعال اہلکار شامل ہیں، جن میں 5 لاکھ 60 ہزار بری فوج، 70 ہزار فضائیہ اور 30 ہزار بحریہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
افغان طالبان کے پاس تقریباً ایک لاکھ 72 ہزار فعال اہلکار ہیں، تاہم انہوں نے تعداد بڑھا کر 2 لاکھ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بری ساز و سامان
پاکستان کے پاس 6 ہزار سے زائد بکتر بند گاڑیاں اور 4 ہزار 600 سے زیادہ توپ خانہ موجود ہے۔
افغان فورسز کے پاس بھی بکتر بند گاڑیاں اور سوویت دور کے ٹینک موجود ہیں، تاہم ان کی درست تعداد واضح نہیں۔ توپ خانے کی تعداد بھی غیر مصدقہ ہے۔
فضائی طاقت
پاکستان کے پاس 465 جنگی طیاروں اور 260 سے زائد ہیلی کاپٹروں پر مشتمل بیڑا موجود ہے، جن میں ملٹی رول، حملہ آور اور ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
افغانستان کے پاس کوئی فعال لڑاکا طیارہ نہیں اور فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے پاس کم از کم 6 پرانے طیارے اور 23 ہیلی کاپٹر موجود ہیں، تاہم ان کی عملی حالت واضح نہیں۔
ایٹمی صلاحیت
پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کے پاس تقریباً 170 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں، جبکہ افغانستان کے پاس کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں۔
