اسلام آباد: چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کی، تاہم افغان حکام کو اس کی سنجیدگی کا ادراک کرنا چاہیے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو اسرائیل اور بھارت سمیت کسی بھی بیرونی قوت کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس کے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کا ساتھ دیا اور مشکل وقت میں انہیں سہارا فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی پناہ گاہ پاکستان تھا، پاکستان سے لڑائی کی تو دنیا میں کہیں پناہ نہیں ملے گی، علامہ طاہر اشرفی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے، دونوں ممالک کو تعلقات میں بہتری اور باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے۔
افغانستان کی بلا اشتعال جارحیت، خیبرپختونخوا کے عوام مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہو گئے
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ ریاست پاکستان افغان طالبان کے مبینہ سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کرے تاکہ ملک کے اندرونی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
