بالی ووڈ کے معروف ہدایتکار سریرام راغوان نے فلم ’اکیس‘ میں شامل پاکستان مخالف مواد پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہدایتکار نے ایک پروگرام میں انٹرویو کے دوران فلم کے آخر میں موجود پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر ہونے والے تنازعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے اس ڈسکلیمر کے بارے میں بہت سوالات کیے، لیکن میں اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ کچھ فیصلے میرے کنٹرول میں نہیں تھے۔
ہر مرد بُرا نہیں ہوتا، عتیقہ اوڈھو کا عورت مارچ مباحثے پر ردِعمل
رپورٹس کے مطابق فلم کے اختتام پر شامل کیے گئے اس بیان نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑا دی تھی کیونکہ فلم میں ایک پاکستانی بریگیڈیئر کو ہمدرد اور انسان دوست کردار میں دکھایا گیا تھا، جبکہ ڈسکلیمَر میں پاکستان پر سخت تنقید کی گئی تھی۔
سریرام راغوان نے واضح کیا کہ اس ڈسکلیمر کا اضافہ ان کی مرضی سے نہیں بلکہ فلم کے پروڈیوسر دینیش کی خواہش پر کیا گیا، جس کی وجہ سے فلم کے آخری حصے کی تاثیر متاثر ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں چاہتا تھا کہ ناظرین خود فلم کی کہانی کو اپنے انداز سے سمجھیں، نہ کہ کسی واضح پیغام کی وجہ سے ان کی سوچ پر اثر پڑے۔
شادی کے چند ماہ بعد ڈاکٹر نبیحہ اور شوہر کے درمیان ازدواجی تنازعہ
واضح رہے کہ فلم ’اکیس‘ 1971 کے بھارت-پاکستان جنگ کے پس منظر میں ایک حقیقی فوجی افسر، سیکنڈ لیفٹیننٹ ارُن خیتر پال کی زندگی پر مبنی ہے۔
