ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ معروف ماہر جینیات ڈیوڈ سنکلئر نے بڑھاپے کے علاج سے متعلق ایک اہم پیشرفت کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھاپا ناگزیر عمل نہیں بلکہ ایک قابل علاج طبی حالت ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈاکٹر سنکلئر نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ ان کی تحقیقی ٹیم نے جزوی ایپی جینیٹک پروگرامنگ کے ذریعے جانوروں میں بڑھاپے کے آثار 75 فیصد تک کم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل میں ترمیم شدہ یاماناکا جینز استعمال کیے گئے۔ جن کی مدد سے بعض نابینا جانوروں کی بینائی بھی بحال ہوئی۔
ڈاکٹر سنکلئر نے کہا کہ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے خلیوں کو دوبارہ نوجوان حالت میں لایا جا سکتا ہے۔ جس سے جسمانی افعال اور طاقت میں بہتری آتی ہے۔ سائنسدانوں نے خلیوں کی فعالیت بحال کرنے کے طریقے دریافت کر لیے ہیں۔ جس سے بڑھاپے کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں کہا کہ اب انسانی کلینیکل ٹرائلز کی تیاری کی جا رہی ہے۔ جن میں ایپی جینیٹک پروگرامنگ تھراپیز کی جانچ کی جائے گی۔ تاریخ میں پہلی بار یہ دیکھا جائے گا کہ آیا بڑھاپے کو پلٹانا اور عمر سے متعلق بیماریوں کا علاج ممکن ہے یا نہیں۔
ڈاکٹر سنکلئر نے اس تحقیق کے ممکنہ معاشی فوائد پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر صحت مند زندگی کا دورانیہ محض ایک سال بڑھ جائے تو اس سے معیشت کو کھربوں ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے عالمی اے آئی دوڑ میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج انسانی آزمائشوں کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ اور اس حوالے سے مزید سائنسی شواہد کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
