اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے عافیہ صدیقی کیس میں وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا حکم واپس لے لیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 21 جولائی 2025 کا حکم ایسے بینچ نے جاری کیا۔ جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا۔ لہٰذا وہ فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 21 جولائی کا سنگل بینچ کا حکم واپس لیا جاتا ہے۔ لارجر بینچ کے مطابق قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی “ماسٹر آف دی روسٹر” ہوتے ہیں اور انہیں ہی بینچ تشکیل دینے کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کوئی بھی جج مقررہ فریم ورک سے ہٹ کر یکطرفہ طور پر دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ روسٹر یا بینچ کی تشکیل کو چیلنج کرنے کا معاملہ اندرونی انتظامی طریقہ کار کے ذریعے اٹھایا جا سکتا ہے۔ اور اسے خود ساختہ عدالتی کارروائی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کے بینک اکاؤنٹس بحال، یوٹیوب پر محدود سرگرمی کی اجازت
لارجر بینچ کے اس فیصلے کے بعد وزیر اعظم اور کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی باضابطہ طور پر ختم ہو گئی۔
