پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر وہ کال دیں تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ تاہم وہ تصادم کی سیاست نہیں چاہتے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پشاور پریس کلب کو جمہوریت کی اعلیٰ مثال قرار دیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے صحافی پیشہ ورانہ اور اخلاقی دائرے میں رہ کر تنقید کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پشاور پریس کلب نے ہمیشہ جمہوری اقدار کو فروغ دیا ہے اور یہاں کے صحافی مشکل حالات میں بھی ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ صحافیوں کی مثبت تنقید کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں۔ اور صوبے کا سیاسی ماحول دیگر صوبوں سے مختلف ہے۔
سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چار سے پانچ روز تک دھرنا دیا گیا۔ لیکن اس معاملے پر سیاست نہیں کی گئی۔ ان کے بقول ذاتی معالج تک رسائی نہ دینا افسوسناک تھا اور ان کے جمہوری رویئے کا غلط فائدہ اٹھایا گیا۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے۔ اور طویل عرصے بعد واپس آئے۔ جبکہ ان کے لیڈر نے زخمی ہونے کے باوجود عدالتوں میں پیشیاں بھگتیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر وہ کال دیں تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا، تاہم وہ تصادم کی سیاست نہیں چاہتے۔
انہوں نے تیراہ کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ جبکہ ایک وزیر اعلیٰ کی جانب سے 11 ارب روپے کا طیارہ خریدنے پر کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔ یہ قومی خزانے کا پیسہ ہے اور وفاق خیبرپختونخوا کو اس کا حق ادا نہیں کر رہا، جسے ہر صورت حاصل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں کم عمری کی شادی روکنے کیلئے سخت قانون کی تجویز
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے لیے آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
