پاکستانی اداکارہ اور مارننگ شو کی میزبان جویریہ سعود لائیو پروگرام کے دوران ایک کالر کے لباس سے متعلق سوال کے بعد دوبارہ سوشل میڈیا اور ناظرین کی تنقید کا نشانہ بن گئیں۔
تفصیلات کے مطابق لائیو کال کے دوران کالر نے جویریہ سعود سے سوال کیا کہ رمضان سے پہلے وہ بیرونِ ملک ایک فیشن شو میں ساڑھی پہنتی تھیں، جبکہ اب رمضان ٹرانسمیشن کے دوران سر پر دوپٹہ اوڑھ کر دینی گفتگو کر رہی ہیں۔
کالر نے یہ بھی پوچھا کہ اگر پہلے ایسا لباس پہنا گیا تو اب اچانک مذہبی انداز کیوں اپنایا جا رہا ہے۔ جس کے بعد کالر نے مولانا آزاد جمیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری درخواست ہے کہ کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ اب جویریہ ایسا نہ کریں۔
نامور فلم ساز کا گھر میں اچانک انتقال، لاش کئی دن پرانی ہونے کی تصدیق
View this post on Instagram
جویریہ سعود نے اس سوال کے جواب میں وضاحت دی کہ مذکورہ فیشن شو برطانیہ میں ہوا تھا اور وہاں شدید سردی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھی کے ساتھ مکمل باڈی سوٹ اور تھرمل لباس بھی پہنا ہوا تھا تاکہ موسم کی شدت سے محفوظ رہا جا سکے۔ پروگرام کے دوران جویریہ نے اپنے کمیز کی آستین سے باڈی سوٹ کی آستین بھی دکھائی اور کہا کہ ہر لباس کے ساتھ یہ پہنا ضروری ہوتا ہے، اور اس موقع پر بھی پہنا ہوا تھا۔
علیزے شاہ کا رمضان کے آغاز پر معافی اور امن کا جذباتی پیغام
اس گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل مخلوط رہا۔ کچھ صارفین نے جویریہ کی وضاحت کو درست قرار دیا، جبکہ دیگر نے کہا کہ میڈیا پر موجود شخصیات کو اپنے طرزِ لباس اور بیانات میں مستقل مزاجی دکھانی چاہیے، خاص طور پر رمضان ٹرانسمیشن کے دوران۔
View this post on Instagram
واضح رہے کہ حال ہی میں جویریہ سعود نے پاکستان فیشن ویک (PFW) میں ریمپ پر واک کی، جہاں انہوں نے اپنے ملبوسات کے مجموعے کی نمائش کی۔ اس موقع پر ان کی بیٹی جنت اور فلم اسٹار ثناء نواز بھی موجود تھیں۔ جویریہ نے سلور ہاف بلاؤز اور لانگ جیکٹ کے ساتھ سیاہ ساڑھی پہنی، جس نے مداحوں کی توجہ حاصل کی، تاہم کچھ افراد نے اس انتخاب پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔
