نظامِ ہاضمہ انسانی جسم کا ایک اہم نظام ہے، جو کھائے جانے والے کھانے کو جسم کے قابل استعمال غذائی اجزاء میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ عمل چند مراحل میں ہوتا ہے، جن میں غذا منہ سے لے کر جسم کے آخری حصے تک سفر کرتی ہے۔
ہضم کا عمل جسم کے لیے ایک پیچیدہ عمل ہے۔ خوراک سب سے پہلے منہ میں چبائی جاتی ہے تاکہ دانت اور لعاب (saliva) اسے توڑ سکیں اور معدے اور آنتوں میں جانے کے لیے تیار ہو جائے۔
رمضان میں وزن کم کرنے اور ہاضمہ بہتر بنانے کیلئے اجوائن کا آسان نسخہ
جب کھانا معدے تک پہنچتا ہے تو اسے معدے کے جوس اور ہاضمے کے انزائمز کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ معدے میں خوراک تقریباً 2 سے 4 گھنٹے رہتی ہے، جہاں یہ ایک نیم مائع شکل اختیار کر لیتی ہے جسے کھائم (chyme) کہا جاتا ہے۔
اس کے بعد کھائم چھوٹی آنت میں داخل ہوتا ہے، جہاں جسم غذائی اجزاء کو خون میں جذب کرتا ہے۔ چھوٹی آنت میں خوراک عام طور پر 4 سے 6 گھنٹے تک رہتی ہے، جس دوران جسم ضروری غذائی اجزاء حاصل کر لیتا ہے۔
جو مادہ چھوٹی آنت میں جذب نہیں ہوتا، وہ بڑی آنت میں پہنچتا ہے۔ یہاں یہ 12 سے 48 گھنٹے رہتا ہے، اور بڑی آنت باقی مادے سے پانی اور نمکیات جذب کرتی ہے۔ آخر میں یہ فضلہ بنتا ہے جو جسم سے خارج ہوتا ہے۔
ہضم کے وقت پر یہ بھی منحصر ہوتا ہے کہ آپ نے کس قسم کی غذا کھائی ہے۔ سادہ کاربوہائیڈریٹس جلدی ہضم ہوتے ہیں، جبکہ پروٹین، چکنائی اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کو ہضم ہونے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
انگلیوں میں چھپی پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی علامت: ماہرین کی وارننگ
مثال کے طور پر، گوشت مکمل طور پر ہضم ہونے میں کئی دن لے سکتا ہے، جبکہ ریشے سے بھرپور غذائیں جیسے پھل، جسم میں تیزی سے ہضم ہو جاتی ہیں اور توانائی فراہم کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ غذا خوردنی نظام میں تقریباً ایک دن سے تین دن تک رہ سکتی ہے، اور غذا کی نوعیت، جسم کی حالت، اور خوراک کے اجزاء ہاضمے کے وقت کو متاثر کرتے ہیں۔
