راولپنڈی، پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے پاکستان کا دوسرا مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ EO-2 چین کے یانگ جیانگ سی شور لانچ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی بڑھتی ہوئی خلائی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگ میل ہے، سپارکو کے سیٹلائٹ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر میں EO-2 کا تصور، ڈیزائن، انجینئرنگ اورانضمام مکمل طورپرمقامی سطح پرکیا گیا۔
اس منصوبے کے ذریعے پاکستان نے سیٹلائٹ ڈیزائن، پے لوڈ انٹیگریشن، ٹیسٹنگ اورمشن تیاری کے شعبوں میں اپنی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا۔
K-4 منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل ہوگا، کراچی کو 260 ملین گیلن پانی ملے گا، احسن اقبال
EO-2 کو اس انداز سے تیار کیا گیا ہے کہ وہ EO-1 کے ساتھ مل کرمختلف روشنی کے حالات میں زمین کا مشاہدہ کرسکے اس سے زمینی خدوخال کی بہترتشریح، تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی اورتسلسل کیساتھ امیجنگ ممکن ہوسکے گی۔
ماہرین کے مطابق اس سیٹلائٹ کی مدد سے قومی منصوبہ بندی، گورننس، قدرتی وسائل کے انتظام، زرعی نگرانی، آفات سے نمٹنے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی مانیٹرنگ میں نمایاں بہتری آئے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ EO-2 کی کامیاب لانچ پاکستان کے مقامی طور پر انجینئرڈ خلائی نظاموں کی ترقی اورخود انحصاری کی جانب اہم قدم ہے، جومستقبل میں مزید جدید سیٹلائٹ پروگرامزکی بنیاد مضبوط کرے گا۔
