امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کی میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی حکام ملک میں اس کی سروسز کو مکمل طور پر بلاک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ روس کا کہنا ہے کہ اگر میٹا روسی قوانین پر عمل کرے تو بات چیت ممکن ہے۔
واٹس ایپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ روس میں ایپ تک رسائی محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پیشرفت یوکرین جنگ کے بعد روس اور غیر ملکی ٹیک کمپنیوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس میں واٹس ایپ سروس متاثر ہونے کے باعث متعدد صارفین کو وی پی این استعمال کرنا پڑا۔
واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے روس میں 10 کروڑ سے زائد صارفین کی نجی اور محفوظ مواصلاتی سہولت متاثر ہو سکتی ہے۔
Today the Russian government attempted to fully block WhatsApp in an effort to drive people to a state-owned surveillance app. Trying to isolate over 100 million users from private and secure communication is a backwards step and can only lead to less safety for people in Russia.…
— WhatsApp (@WhatsApp) February 12, 2026
روس اور میٹا کے درمیان تنازع فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا۔ روس کے مواصلاتی نگرانی کے ادارے نے گزشتہ برس واٹس ایپ اور دیگر میسنجر سروسز پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے کالنگ فیچرز کو محدود کر دیا تھا۔ اور الزام لگایا تھا کہ غیر ملکی پلیٹ فارمز فراڈ اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون نہیں کر رہے۔
بعد ازاں روسی حکام نے واٹس ایپ پر مرحلہ وار مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایپ کو دہشت گردی، بھرتی اور فراڈ جیسے جرائم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان پابندیوں کے بعد کئی صارفین وی پی این یا متبادل میسجنگ ایپس کی طرف منتقل ہو گئے۔ جبکہ ٹیلی گرام سمیت دیگر پلیٹ فارمز بھی حکومتی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس معاملے پر کریملن کے ترجمان نے روسی میڈیا کو بتایا کہ واٹس ایپ کی روس میں مکمل بحالی روسی قوانین کی پاسداری سے مشروط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ ویب پر نئے فیچر متعارف، صارفین کی بڑی مشکل آسان
واضح رہے کہ روس اس سے قبل فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور یوٹیوب جیسے متعدد غیر ملکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی محدود یا بلاک کر چکا ہے۔ روسی حکام نے غیر ملکی ایپس کے متبادل کے طور پر ریاستی سرپرستی میں تیار کردہ میسجنگ ایپ “میکس” کو متعارف کرایا ہے۔ جسے سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے فروغ دیا جا رہا ہے۔
