تہران: ایران کی ایک عدالت نے نوبل امن انعام یافتہ معروف سماجی رہنما نرگس محمدی کو مختلف الزامات کے تحت 6 سال طویل قید کی سزا سنا دی ہے۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نرگس محمدی کو یہ سزا جرائم کے ارتکاب کے لیے اجتماع، سہولت کاری اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر سنائی گئی۔
نرگس محمدی کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے انہیں ملک چھوڑنے پر 2 سال کی پابندی بھی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ پراپیگنڈا کے الزام میں انہیں ڈیڑھ سال مزید قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جبکہ 2 سال کے لیے مشرقی صوبے جنوبی خراسان کے شہر خوسف میں جلاوطنی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
وکیل کے مطابق ایرانی قانون کے تحت ان تمام سزاؤں کا اطلاق بیک وقت کیا جا سکتا ہے۔
وکیل نے بتایا کہ نرگس محمدی کی صحت طویل عرصے سے خراب ہے۔ اسی بنیاد پر امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایرانی عدلیہ انسانی ہمدردی کے تحت انہیں علاج کے لیے ضمانت پر عارضی رہائی دینے پر غور کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ نرگس محمدی گزشتہ 25 برسوں سے ایران میں سزائے موت کے خلاف مہم اور خواتین کے لیے لازمی حجاب کے قانون پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث انہیں متعدد بار مقدمات اور قید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی اڈہ قبول نہیں ، بھرپور مزاحمت کرینگے ، صومالی صدر
نرگس محمدی کو ان کی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد، خصوصاً سزائے موت کے خلاف مہم کے اعتراف میں 2023 میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ تاہم اس وقت وہ قید میں ہونے کے باعث ان کی جانب سے یہ انعام ان کے بچوں نے وصول کیا تھا۔
