وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں،قیام امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا امن اور ترقی ترجیح ہے،دہشتگرد پاکستان دشمنوں کے ایما پر بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں،بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔
بلوچ محب وطن پاکستانی ہیں، دہشتگردوں کا بلوچوں سے کوئی تعلق نہیں،جب جعفر ایکسپریس کا حملہ ہوا تو بھارت میں جشن کا سماں تھا،پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے،ماضی میں بلوچستان میں جو کچھ ہوا اس کو بدلا نہیں جا سکتا۔
بلوچستان سے لاشیں پورے پاکستان میں آتی ہیں،پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کو بسوں سے اتار کر شہید کردیا جاتا ہے،بے گناہ لوگوں کو خاندان کے سامنے شہید کیا جاتا ہے،ظالموں کو نجات دہندہ نہیں کہا جا سکتا۔کیا نجات دہندہ ریلوے پلوں کو اڑاتے اور شاہراہوں پر ناکے لگاتے ہیں۔
معرکہ حق میں بھارت کو ہزیمت اٹھانا پڑی ،دہشتگردی کے مسئلے کا حل وہی ہے جو ریاست نے معرکہ حق میں کیا،دہشتگردوں کی اب پوری طرح سے شناخت ہو گئی ہے،اس وقت بلوچستان میں 2مختلف مسائل ہیں،بلوچستان کے دونوں مسائل کے حل کا الگ الگ طریقہ کار ہے۔
فیصل واوڈا کے رانا ثنا اللہ، عمران خان اور فیض حمید سے متعلق اہم انکشافات
انہوں نے مزید کہا کہ فیصل آباد میں بلوچستان کے لوگ اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں،18ویں ترمیم پر اب کافی باتیں ہو رہی ہیں،صوبہ اپنا حصہ لینے کے باوجود اپنے اضلاع اور ڈویژنز کو کچھ نہیں دے رہا،این ایف سی اور 18ویں ترمیم تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ہو ئی۔
2024کے انتخابات پر تو سوال اٹھائے جاتے ہیں،شفاف الیکشن کروانے کیلئےسیاسی جماعتوں کو کس نے روکا ہے؟الیکشن رولز میں ترامیم اور الیکشن کمیشن کو شفاف کس نے کرانا ہے؟2018میں ہمیں کہا جاتا تھا کہ پارلیمانی نظام میں بیٹھیں،الیکشن ریفارم کیلئے کمیشن بنایا گیا لیکن دوسرا اجلاس نہ ہو سکا۔
