معروف بلغارین پیشگو بابا وانگا (baba vanga)کی پیشگوئیاں ایک بار پھر عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔
بابا وانگا نے اپنی پیشگوئیوں میں دعویٰ کیا تھا کہ دنیا کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور کاغذی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوگی، جس کے باعث سونا، چاندی اور تانبا لوگوں کے لیے محفوظ ترین سرمایہ کاری کے ذرائع بن جائیں گے۔
جون 2026 تک سونے کی قیمت کہاں تک جائیگی؟نئی پیشگوئی کردی گئی
ان پیشگوئیوں کے بعد کئی افراد نے اپنی بچتیں قیمتی دھاتوں میں منتقل کرنا شروع کر دیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ مزید بڑھا دی۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق ایم سی ایکس پر سونے کی قیمت ایک وقت میں ایک لاکھ 80 ہزار روپے فی 10 گرام تک جا پہنچی، جب کہ ایک سال کے دوران اس کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح چاندی کی قیمت بھی تیزی سے بڑھتی ہوئی 4 لاکھ روپے فی کلوگرام کی سطح کو عبور کر گئی۔ چاندی نے بھی سرمایہ کاروں کو ایک سال میں 160 فیصد سے زائد منافع دیا، جس کے باعث اسے ایک مضبوط سرمایہ کاری آپشن کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
سونا ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟
ماہرین کے مطابق بابا وانگا کی پیشگوئیوں نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت دی اور لوگوں نے غیر یقینی معاشی حالات کے خدشے کے تحت قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی۔
تاہم، 30 جنوری کے بعد صورتحال میں اچانک تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور یہ گراوٹ مسلسل تقریباً تین دن تک جاری رہی۔ اس دوران دونوں دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی حالات، منڈی کے اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے باعث قیمتوں میں اس طرح کی کمی بیشی آتی رہتی ہے۔ تاہم بابا وانگا کی پیشگوئیوں کے باعث سونا اور چاندی اب بھی طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر اہمیت رکھتے ہیں۔
