امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے چین اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات، عالمی امور اور باہمی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے گفتگو کے دوران کہا کہ وہ چین اور امریکا کے تعلقات کے لیے مزید اچھے اور بڑے کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
چینی صدر نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنانا چاہیے اوراختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین اورامریکا کے تعلقات میں سب سے اہم معاملہ ہے اورامریکا کو تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے سے محتاط اندازمیں نمٹنا چاہیے۔
افزودہ یورینیم کو کسی اور ملک منتقل نہیں کرینگے ، ایران کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلی فونک گفتگو کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی بہترین بات چیت ہوئی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق چین کی جانب سے مزید امریکی زرعی مصنوعات، تیل اور گیس خریدنے کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی انہوں نے بتایا کہ تائیوان، یوکرین میں جنگ اورایران سے متعلق امور بھی گفتگو کا حصہ رہے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کرینگے اوراس دورے کے منتظر ہیں، چین کیساتھ اورصدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات انتہائی اچھے ہیں اور دونوں رہنما اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ان تعلقات کو برقرار رکھنا کتنا اہم ہے۔
ٹرمپ کے مطابق چینی صدر نے اگلے سیزن کے لیے امریکا سے 25 ملین ٹن سویابین خریدنے کا عہد بھی کیا، جسے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
