ایران اور امریکا جمعے کو ترکیہ کے شہر استنبول میں جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی استنبول میں ملاقات کریں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “برے نتائج” سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا نے ایران کے قریب بحری طاقت بڑھا دی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بڑے امریکی جنگی جہاز ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم ساتھ ہی بات چیت بھی جاری ہے۔ ان کے بقول، اگر کوئی حل نکل آیا تو بہتر ہوگا، ورنہ صورتحال بگڑ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے مذاکرات کی بحالی کے لیے تین مطالبات رکھے ہیں: ایران میں یورینیم کی افزودگی صفر کرنا، بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنا۔ ایران ان مطالبات کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیتا رہا ہے، تاہم ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ افزودگی پر لچک دکھائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ پابندیاں اٹھائی جائیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کے لیے وقت اہم ہے اور وہ غیرمنصفانہ پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ دوسری جانب ترکی، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر جیسے علاقائی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے استنبول اجلاس میں شریک ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں حالیہ پیش رفت، امریکی بحری موجودگی اور ایران کے جوہری مقامات سے متعلق سیٹلائٹ تصاویر نے دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا جوہری نگران ادارہ بھی ایران سے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر وضاحت کا مطالبہ کر رہا ہے۔
