وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تیل اسمگلنگ سے دہشتگرد روزانہ 4 ارب روپے کما رہے ہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تیل سمیت مختلف اشیا کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ بلوچستان کے مخصوص جغرافیائی حالات کی وجہ سے اس علاقے میں بڑی تعداد میں فوجی اہلکاروں کی تعیناتی لازمی ہے۔
وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا، معمول کی نقل مکانی ہے، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے کہا کہ کاروباری نقصانات کو ریکور کرنے کیلیے تحریک چلائی جا رہی ہے، اس کرپشن نیٹ ورک کے ذریعے ایران سے 40 روپے لیٹر تیل لے کر کراچی میں 200 روپے فی لیٹر بیچ رہے ہیں۔اسمگل تیل کو روکا گیا اس کی وجہ سے یہ لوگ امن و امان برباد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو ہوا قوم کیلئے بہت بڑا المیہ ہے۔ دہشت گردی کو افغانستان سے ہوا دی جا رہی ہے، دہشتگردوں کے سربراہ افغانستان میں موجود ہیں، وہاں سے ان کو مدد ملتی ہے۔ ان دہشت گردوں کے پیچھے بھارت ہے۔
پیپلز پارٹی خواجہ آصف کے بیان پر برہم، حکومت سے وضاحت طلب
ان کا مزید کہنا تھا کہ سرداری نظام نے بلوچستان کے تمام وسائل کو لوٹا، دہشتگردوں کے پاس 20، 20 لاکھ روپے کی رائفل موجود ہے ، دہشتگرد امریکی اسلحہ استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے چوروں کی آرمی ہے جو اسمگلروں کو حفاظت فراہم کرتی ہے ، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں سے سختی سے نمٹا جائے گا، خواتین اور بچوں پر حملہ کرنے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
