وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری برادری اور صنعتوں کے لیے بڑے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے ویلنگ چارجز میں صنعتوں کے لیے 9 روپے کمی اور ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس کی شرح ساڑھے 7 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد کرنے کا بھی اعلان کیا۔
کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دل تو چاہتا ہے بجلی 10 روپے سستی کی جائے، مگر بعض مجبوریوں کے باعث ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے برآمدکنندگان اور نمایاں کاروباری شخصیات کو دو سال کے لیے بلیو پاسپورٹ دیا جائے گا، جس کی تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ برآمدکنندگان اور کاروباری طبقہ ملکی معیشت کا سر کا تاج ہیں اور آئندہ معاشی پالیسیاں تاجر برادری سے مشاورت کے بعد تشکیل دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدکنندگان نے مشکل حالات میں محنت کر کے 2025 میں ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا اور اربوں ڈالر ملک میں لائے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں اور کچھ لوگوں نے ملک کو تکنیکی طور پر ڈیفالٹ قرار دے دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 میں پیرس سمٹ کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ سخت شرائط پر بات چیت ہوئی، تاہم چین، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا گیا۔
ان کے مطابق اب معیشت مستحکم ہو چکی ہے، مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے اور پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد تک آ چکا ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ صورتحال ابھی مزید بہتری کی متقاضی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ذخائر پہلے سے دگنے ہو چکے ہیں اور حکومت اخراجات کم کرنے، نجکاری اور شفافیت کے اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے شوگر سیکٹر، یوٹیلیٹی اسٹورز اور پاسکو میں کرپشن کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سخت فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام میں سیکیورٹی اداروں نے اہم کردار ادا کیا اور پیٹرول کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے معاشی اصلاحات جاری رہیں گی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے رابطے تیز کیے جا رہے ہیں۔

