بھارت نیپا وائرس(nipah virus) کی وبا چھپا کر بین الاقوامی کھلاڑیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے لگا، ٹی20 ورلڈ کپ سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارت ایک بار پھر نیپا وائرس کی شدت کو جان بوجھ کر کم ظاہر کر کے بین الاقوامی کھیلوں اور عوامی صحت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

سرکاری طور پر نئی دہلی دسمبر 2025 سے مغربی بنگال میں صرف دو کیسز تسلیم کرتا ہے، تاہم آزاد رپورٹس کے مطابق کولکتہ میں اسپتالوں سے منسلک کم از کم پانچ انفیکشنز سامنے آئے ہیں، جن میں نوسوکومیئل کلسٹرز کے باعث متاثر ہونے والے طبی عملے کے افراد بھی شامل ہیں۔
بھارت میں خطرناک وائرس، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا
40 سے 75 فیصد تک شرحِ اموات کے ساتھ نیپا ، بھارتی حکام کے اعتراف سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ 2026 آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل کنٹرول کا تاثر قائم رکھنے کے لیے حقائق چھپائے جا رہے ہیں، حالانکہ کولکتہ کا ایڈن گارڈنز میزبان مقامات میں شامل ہے۔

اس طرزِ عمل سے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین غیر ضروری خطرات سے دوچار ہو رہے ہیں، خصوصاً اس پس منظر میں کہ بھارت میں بین الاقوامی اسپورٹس ایونٹس کے دوران ناقص صفائی اور غیر محفوظ حالات کی مثالیں موجود ہیں۔
2026 انڈیا اوپن سپر 750 بیڈمنٹن ٹورنامنٹ میں غیر ملکی کھلاڑیوں نے گندے ٹریننگ ہالز، پرندوں کی بیٹ، آوارہ جانوروں، شدید سردی اور زہریلی ہوا کی شکایات کیں، حتیٰ کہ کچھ نے حفاظتی خدشات کے باعث دستبرداری اختیار کی۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ؛ آئی سی سی نے اسکاٹ لینڈ کو بڑی یقین دہانی کرادی
یہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کھلاڑیوں کی صحت یقینی بناتے ہوئے عالمی معیار کے ایونٹس کی میزبانی کے لیے تیار نہیں۔
وبا کے متاثرہ علاقوں کے قریب کرکٹ وینیوز، ناقص صفائی اور انتظامی ناکامیوں کے پیشِ نظر بھارت میں ٹی20 ورلڈ کپ میچز کرانا غیر ذمہ دارانہ ہے۔

آئی سی سی کو تمام میچز سری لنکا منتقل کرنے چاہئیں، جہاں بہتر صحت نگرانی اور محفوظ سہولیات کھلاڑیوں اور تماشائیوں کا تحفظ کر سکتی ہیں۔
بھارت میں ایونٹس جاری رکھنا نہ صرف جانوں کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ آمدن اور ظاہری تاثرعالمی سلامتی اور ذمہ داری پر ترجیح دینے کی خطرناک مثال قائم کرے گا۔

