نئی دہلی: بھارتی صحافی شاردا اگرا نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی عملاً وہی فیصلے کرتی ہے۔ جو بی سی سی آئی چاہتا ہے۔ جبکہ عالمی کرکٹ کو درپیش حالیہ بحران نہایت بھونڈے انداز میں ہینڈل کیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارتی صحافی شاردا اگرا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ورلڈ کپ سے متعلق موجودہ معاملے نے آئی سی سی کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ سے دستبردار ہوتا ہے۔ تو اس سے آئی سی سی کو شدید مالی نقصان ہوگا۔ کیونکہ پاک بھارت میچ آئی سی سی کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ پاکستان کی اہمیت محض کھیل کی نہیں بلکہ مالی پہلو سے بھی انتہائی زیادہ ہے۔
شاردا اگرا نے کہا کہ موجودہ حالات میں آئی سی سی کی ساکھ بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ جبکہ اس تنازع نے اس وقت جنم لیا جب بنگلادیشی کھلاڑی مستفیض الرحمٰن کو آئی پی ایل سے نکال دیا گیا۔ جسے انہوں نے ایک سیاسی فیصلہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اس معاملے میں شامل ہونا ماضی میں بھارت کے رویئے کا جواب ہو سکتا ہے۔ بی سی سی آئی براہ راست بھارتی حکمرانوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اور کرکٹ کے فیصلے سیاسی اثرورسوخ کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
بھارتی صحافی نے کہا کہ ورلڈ کپ کے موجودہ بحران کی بنیادی وجہ بھارت کا آئی سی سی اور دیگر کرکٹ بورڈز پر اثرورسوخ ہے۔ جو بھارت کی مالی طاقت کے باعث ممکن ہوا ہے۔ جب بنگلادیش کو بھارت جانے میں مسئلہ درپیش ہوا تو اچانک آئی سی سی کو ٹورنامنٹ قوانین یاد آ گئے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتی ٹیم کو پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے کس نے روکا؟ یہ آج تک واضح نہیں ہو سکا۔ جے شاہ کے آئی سی سی چیئرمین بننے کے بعد ایک بھارتی کو ہی آئی سی سی کا سی ای او مقرر کیا گیا۔ اگر کسی اور ملک کا سی ای او ہوتا تو صورتحال مختلف انداز میں سنبھالی جاتی۔
شاردا اگرا کے مطابق کرکٹ ایک مشترکہ ثقافتی موقع ہونے کے بجائے سیاسی لڑائی کا میدان بن چکی ہے۔ جہاں بھارت کرکٹ کے ذریعے پڑوسی ممالک کو جواب دے رہا ہے۔ آئی سی سی اب ایک سنجیدہ اسپورٹس باڈی نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ بھارت میں ہوگا یا نہیں؟ اہم فیصلہ متوقع
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی اور کھیل کا ایسا معاملہ ہوتا تو اس کی عالمی تنظیم اسے کہیں زیادہ سنجیدگی سے ہینڈل کرتی۔ تاہم بنگلادیش کے مطالبات تسلیم نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ بی سی سی آئی کی انا تھی۔
