نئی دہلی: بھارت میں مہلک نیپا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے انعقاد کو خطرہ لاحق ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق عالمی کرکٹ کا یہ بڑا ایونٹ رواں سال 7 فروری سے بھارت میں شروع ہونا ہے۔ تاہم حالیہ وبائی صورتحال نے میگا ایونٹ کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا۔
بھارتی صحت حکام کے مطابق مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے 5 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جن میں متاثرہ افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 100 سے زائد افراد کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیئے گئے ہیں۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیپا وائرس تیزی سے پھیلتا رہا۔ تو اس سے نہ صرف عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ بلکہ ٹی 20 ورلڈ کپ کی تیاریوں، لاجسٹکس اور سیکیورٹی انتظامات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز اور شائقین کے سفر پر بھی منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق موجودہ صورتحال نے ایونٹ کے انتظامات کو پیچیدہ اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ صحت حکام اور کرکٹ بورڈز صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں ایونٹ کے شیڈول یا مقام میں تبدیلی کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
نیپا وائرس کیا ہے؟
نیپا وائرس ایک جان لیوا اور متعدی وائرس ہے۔ جو انسانوں اور جانوروں دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر متاثرہ جانوروں یا ان کے فضلے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد بخار، سانس کی تکلیف، متلی، سر درد اور شدید صورتوں میں دماغی انفیکشن یا موت کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف فاسٹ بولر نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق نیپا وائرس ایک خطرناک بیماری ہے۔ جس کی تاحال کوئی مؤثر ویکسین یا مکمل علاج دستیاب نہیں۔ اس لیے احتیاطی تدابیر اور فوری قرنطینہ ہی سب سے مؤثر حفاظتی اقدامات سمجھے جاتے ہیں۔
