اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے سپر ٹیکس کو درست قرار دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سپر ٹیکس کو آئینی طور پر درست قرار دے دیا ہے اور اس حوالے سے سپر ٹیکس 2015 سے متعلق دائر تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ کے شہدا کے خاندان کو ایک ایک کروڑ روپے دینے کی منظوری دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے مختلف شرائط کیساتھ کیس نمٹا دیا، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ کیس کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات مسترد کیے جاتے ہیں۔
چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ آئل اینڈ گیس سیکٹرز رعایت کے حصول کیلئے ٹیکس کمشنر سے رجوع کر سکتے ہیں۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 4 بی کو 2015 سے برقرار رکھنے کا حکم دیا تاہم ہائی کورٹس کے سیکشن 4 سی سے متعلق فیصلوں کو جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
وزیراعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، سپریم کورٹ
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پارلیمنٹ انکم پر ٹیکس لگانے کا اختیار رکھتی ہے، سماعت کے دوران مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان نے جواب الجواب میں اپنے دلائل مکمل کیے، عدالت نے قرار دیا کہ سپر ٹیکس کے نفاذ میں کوئی آئینی سقم موجود نہیں۔
