قومی ٹیم کے سلیکٹر عاقب جاوید نے کہا کہ سری لنکا میں جیسی کرکٹ کھیلی جاسکتی ہے اس کو دیکھ بابر اعظم کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے سلیکٹر عاقب جاوید، کپتان سلمان علی آغا اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر عاقب جاوید نے کہا کہ ٹیم کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب کی گئی ہے، کیونکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 کرکٹ میں ایک جیسی چوائس ممکن نہیں ہوتی۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے پاکستان نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے زیادہ تر میچز سری لنکا میں شیڈول ہیں، جہاں کی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے بہترین کمبی نیشن کے ساتھ ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ ون ڈے اور ٹی 20 کرکٹ، ٹیسٹ کرکٹ سے کافی مختلف ہے اور اب کرکٹ گزشتہ کئی برسوں میں تبدیل ہو چکی ہے مگر بدقسمتی سے ہم اب بھی 90 کی دہائی سے باہر نہیں آ رہے۔
انہوں نے کہا کہ حارث رؤف کافی عرصے سے کھیل رہے ہیں، تاہم ان کے حوالے سے فیصلہ کنڈیشنز کو دیکھ کر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ کرکٹ آسٹریلیا میں ہوتی ہے اور کچھ ایشیا میں، اسی لیے سری لنکا کی کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے بابر اعظم کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کے نام پر کپتان اور کوچ دونوں نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے مکمل طور پر پرجوش ہے اور شائقین کرکٹ سمیت پوری قوم کی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا مگر ٹیم اس کیلئے تیار ہے، سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ ٹیم میں ہر کھلاڑی کا اپنا کردار ہوتا ہے جبکہ سری لنکا کی کنڈیشنز کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں بڑے اسکور بنانا آسان نہیں ہوگا۔
کپتان نے بابر اعظم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم بیک کے بعد اچھا کھیل رہے ہیں، اگرچہ وہ آسٹریلیا میں توقعات کے مطابق پرفارم نہیں کر سکے تاہم پاکستان کی جانب سے ان کی کارکردگی تسلی بخش رہی ہے۔
پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ بنگلا دیش معاملے پر راشد لطیف کا مشورہ
دوسری جانب قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ عثمان خان نے ٹیم میں واپسی کے بعد شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور سری لنکا کے خلاف بہترین وکٹ کیپنگ کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ صاحبزادہ فرحان کو میچ کے دوران انجری کے معمولی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث ان پر رسک نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ وہ ٹیم کے اہم کھلاڑی ہیں۔
