وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ نے پورے ملک کو غمگین کر دیا ہے اور اس افسوسناک واقعے کو بیان کرنے کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔
سندھ اسمبلی میں ایوان کو سانحے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ابتدا میں 88 افراد کی گمشدگی کی رپورٹ موصول ہوئی، جن میں سے ایک شخص بعد میں زندہ مل گیا جبکہ 5 افراد کو دو مرتبہ لاپتہ رپورٹ کیا گیا۔
ان کے مطابق 82 لاپتہ افراد میں سے اب تک 61 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 15 افراد تاحال لاپتہ ہیں، اب تک 45 لاشوں کے ڈی این اے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 9 لاشوں کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ممکن نہیں ہو سکی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ صبح 10 بج کر 14 منٹ پر پیش آیا جبکہ 10 بج کر 26 منٹ پر فائر بریگیڈ کو آگ لگنے کی اطلاع دی گئی، جو ایک دکاندار کے بچے نے دی۔
انکے مطابق واقعے کے صرف 16 منٹ بعد ڈپٹی کمشنر موقع پر موجود تھے اور تمام ریکارڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے تصدیق کی گئی ہے۔
پنجاب:تعلیمی کیلنڈر میں بڑی تبدیلی کی تیاری، گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کی سفارش
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ اس سانحے پر مکمل انکوائری کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کوتاہی کہاں ہوئی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ایف آئی آر درج کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہو گی، کوئی بھی سزا سے نہیں بچے گا حتیٰ کہ اگر وہ خود ذمہ دار پائے گئے تو سزا کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ گل پلازہ کی تعمیر اور لیز سے متعلق متعدد بے قاعدگیاں اٹھارویں ترمیم سے پہلے کی ہیں۔
اتھارٹی نے لیز مکمل ہونے سے قبل عمارت بنانے کی اجازت دی، 1991 میں اس وقت کے میئر نے تعمیر کے بعد زمین کی لیز منظور کی، جبکہ 2001 میں ایک آرڈیننس کے تحت بے قاعدگیوں کو ریگولرائز کیا گیا۔ عمارت میں 16 داخلی راستے اور بیسمنٹ میں دکانیں بنائی گئیں۔
متاثرین کیلئے حکومتی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہر دکاندار کو 5،5 لاکھ روپے دیے جائیں گے، متاثرہ کاروبار کو دوبارہ کھڑا کرنے کیلئے جلد مالی معاونت فراہم کی جائیگی، تقریباً 850 دکانوں کا انتظام کیا گیا ہے جہاں ایک سال تک کوئی کرایہ نہیں لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگلے دو ماہ میں تمام متاثرین کے کاروبار کیلئے دکانوں کا بندوبست کر دیا جائے گا اور بلا سود ایک ایک کروڑ روپے کا قرض فراہم کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پہلے بھی متاثرین کے ساتھ تھی اورآئندہ بھی ہرممکن تعاون جاری رکھے گی۔
