پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔
اجلاس میں نیویارک اور پشاورکو “سسٹر سٹیز” قراردینے کیلئے مفاہمتی یادداشت کے مسودے کی منظوری دی گئی، جس کے تحت دونوں شہروں کو ثقافتی، تجارتی، معاشی، تعلیمی اورگورننس اصلاحات میں ایک دوسرے سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا، جیسا کہ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بتایا۔
کابینہ نے جیلوں میں سیکیورٹی اقدامات کے تحت مختلف اسکیموں کے لیے 2 ارب 68 کروڑ 40 لاکھ روپے کے فنڈز کی منظوری دی۔
مزید براں خیبرپختونخوا ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی بل 2025 اورخیبرپختونخوا منرلز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل 2025 بھی کابینہ سے منظور ہوئے۔
گل پلازہ میں آگ کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کا دائرہ وسیع
ڈی آئی خان میں ہندو اور سکھ برادری کے لیے شمشان گھاٹ کے قیام کے لیے اراضی کی فراہمی کی منظوری دی گئی، اگست 2025 کے سیلاب متاثرین کے لیے ایک ارب 13 کروڑ 60 لاکھ روپے امدادی فنڈ کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ نے اسکولوں میں کمپیوٹر سائنس کے کورسز میں مصنوعی ذہانت (AI) شامل کرنے کی منظوری دی، جس کے تحت گریڈ 6 سے 12 کے طلبہ کو AI پڑھائی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی میں مہارت فراہم کرنا اور تعلیم میں جدت لانا ہے۔
